تحقیقات کا کہنا ہے کہ سانحہ مری کے دوران 20 برف کے پل ایک ہی جگہ پر کھڑے تھے۔ 28

تحقیقات کا کہنا ہے کہ سانحہ مری کے دوران 20 برف کے پل ایک ہی جگہ پر کھڑے تھے۔

  • خبروں کے مطابق، مری میں برفانی طوفان کی زد میں آنے کے بعد 29 میں سے 20 برف کے پلے اسی جگہ کھڑے تھے۔
  • ذرائع کے مطابق ڈرائیور اور دیگر عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جب کہ اہل خانہ برفانی طوفان میں پھنس گئے۔
  • اطلاعات کے مطابق، مختلف داخلی راستوں سے مری میں داخل ہونے والی تقریباً 50,000 سیاحوں کی گاڑیوں کو ضلعی انتظامیہ نے واپس جانے کے لیے کہا تھا۔

جمعہ کو نئی معلومات سامنے آئیں جب سانحہ مری سے متعلق تحقیقات مزید آگے بڑھیں، جس میں انکشاف ہوا کہ 29 میں سے 20 برفانی تودے اسی جگہ کھڑے تھے جب برفانی طوفان نے علاقے کو نشانہ بنایا، جیو نیوز اطلاع دی

8 جنوری بروز ہفتہ کاربن مونو آکسائیڈ کے زہر سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے کیونکہ مری میں شدید برف باری کی وجہ سے ہزاروں سیاح گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں، جس کے نتیجے میں سڑکیں بند ہو گئیں۔

ذرائع کے مطابق سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والی 29 گاڑیوں میں سے 20 گاڑیاں اسی جگہ کھڑی تھیں جب کہ ڈرائیور اور دیگر عملہ ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے اہل خانہ برفانی طوفان میں پھنس کر رہ گئے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے مری میں تعینات آپریشنل سٹاف کے بیانات بھی قلمبند کر لئے ہیں تاہم انکوائری کمیٹی نے ان سے پوچھ گچھ کی تو محکمہ جنگلات کے اہلکار کوئی تسلی بخش وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

اب تک کی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے مری کے مختلف داخلی راستوں سے تقریباً 50 ہزار سیاح گاڑیاں واپس کی تھیں۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں سانحہ مری پر سماعت ہوئی، واقعے میں ملوث حکومتی غفلت کی تحقیقات کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری سیاحت اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)، کمشنر راولپنڈی، چیف ٹریفک آفیسر اور ریجنل پولیس افسر کو طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے مری کی ہوٹل مالکان ایسوسی ایشن کو 19 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس بھی جاری کر دیا۔

مری میں برف باری سے 23 افراد جاں بحق

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مری میں شدید برف باری اور سڑکوں کی بندش کے باعث ہزاروں سیاح گاڑیاں پھنس جانے کے باعث کم از کم 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پنجاب حکومت نے شدید برف باری سے شہر میں تباہی مچانے کے بعد مری کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا تھا۔

مری کی مقامی انتظامیہ کے مطابق مری کے گردونواح میں بارش اور برفانی طوفان کی پیشگوئی کی گئی، 50 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرج چمک کے ساتھ بارش اور شدید برفباری ہو گی۔

مزید برآں، اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے جمعرات کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سانحہ مری کا ذمہ دار ہے۔


– تھمب نیل تصویر: اے ایف پی/فائل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں